تحریر: مولانا ذوالفقار علی زیدی کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی| امریکہ جب سے سپر پاور بنا ہے، دنیا کے ضعیف اور کمزور ممالک کا اس نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اس عالمی دہشت گرد نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم استعمال کرکے لاکھوں افراد کو لقمۂ اجل بنایا۔ دنیا کی تاریخ میں صرف امریکہ ہی ہے جس نے ایسا ظلم کیا۔
وینزویلا کی دولت حاصل کرنے کے لیے اس کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک کے تیل کے ذخائر کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس اپنے ظلم پر شرمندہ ہونے کے بجائے فخر کا اظہار کرتا ہے۔
ٹرمپ ایک ایسا صدر ہے جو ہر گھنٹے کے بعد کوئی جھوٹا بیان داغ دیتا ہے۔ اس کی اس حالت کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ امریکی عوام بھی اتنی انحطاط فکری کا شکار ہو چکی ہے کہ ایسے شخص کو اپنا لیڈر اور صدر بنایا ہوا ہے، اور ابھی تو اس نے اپنے اگلے الیکشن کے لیے ووٹروں کو 5000 ڈالر رشوت دینے کا اعلان کیا ہوا ہے، یعنی حقِ رائے دہی کا جنازہ نکال کر ووٹ خریدنے کا اعلان ہے۔ کیا ایک مہذب معاشرے میں عوام اس کی اجازت دے گی؟ اس کا جواب خود امریکی عوام کو دینا چاہیے۔
ٹرمپ صاحب کو خصوصی طور پر اسلام سے پرخاش ہے۔ جب 1979ء میں انقلابِ اسلام کی کامیابی کے بعد اسلامی تہذیب معاشرے میں رائج ہوئی تو اپنی دشمنی کی بنا پر 47 سال تک اقتصادی دباؤ میں رکھا اور اب ایران کے ساتھ جنگ بھی شروع کی ہوئی ہے۔ اور ساتھ ہی باقی اسلامی ممالک جیسے عراق، لیبیا، افغانستان وغیرہ اس کے شکار ہوئے۔
ویتنام کے ساتھ ایک طویل جنگ کے بعد منہ کی کھا کر بھاگنا پڑا۔ اسی طرح افغانستان میں بھی اس کی یہ حالت ہوئی۔
اب اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں باؤلے ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ’’میں اس تہذیب کو صفحۂ ہستی سے مٹا دوں گا‘‘، ’’آج مٹا دوں گا‘‘، ’’کل مٹا دوں گا‘‘، کے الفاظ اس سے اکثر سننے کو آتے ہیں، مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ اسلام کی اسلامی تہذیب ایک ایسا چراغ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فروزاں کیا ہے۔
یہ ایک ایسی تہذیب ہے جس میں انسانیت کے اعلیٰ اقدار، قانون کی حکمرانی اور عدالتِ الٰہی کا نمونہ بن کر عالمِ انسانیت کے لیے ان کی دنیا کو بھی جنت بنانے کا پروگرام پیش کرتا ہے۔
’’پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘‘
جو ملت ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ پر ایمان رکھتی ہے، وہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ ایپسٹین فائل جیسے غلیظ کردار دنیا پر اپنی تہذیب کو مسلط کریں۔
اسلامی تاریخ میں یہ المیہ ہے کہ خلافتِ راشدہ کے بعد بنی امیہ نے اسلامی خلافت کا گلا گھونٹ کر اسے ملوکیت میں تبدیل کر دیا۔ اب یہاں سے اسلام دو گروہوں میں تقسیم ہو گیا، بنی امیہ کا اسلام اور الٰہی/محمدی اسلام۔
اور ملوکیت کے ان سلاطین نے متغلب کی حکومت کو جائز قرار دے دیا اور زر خرید ملاؤں کے ذریعے اپنے نئے اسلام کو ترجیح دی، اور ان سلاطینِ جور نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے ہر ممکن ذریعے کو استعمال کیا اور ان ملاؤں کے ذریعے اپنے آپ کو اولی الامر قرار دے کر لوگوں کو بزورِ شمشیر اپنے تابع رکھا۔
اس طرح منافقین اور مومنین اپنی اپنی جگہ نمایاں ہو گئے، یعنی بنی امیہ کے طرف دار مسلمان اور حضرت محمد ﷺ اور آلِ محمدؐ کے پیروکار ابھر کر سامنے آگئے۔
موجودہ دور میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ منافقین کبھی امریکہ سے یا کبھی اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک کر مدد مانگتے ہیں، مگر مومنین جو اللہ تعالیٰ کو سپر پاور مانتے ہیں، وہ جم کر ایسی دنیاوی طاقتوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔
انہیں اس بات کی پروا نہیں ہے کہ جان رہے یا نہ رہے، ملک رہے یا نہ رہے، ان کی زندگی کا مقصد ہی یہی ہے کہ یہ اسلامی تہذیب قائم و دائم رہے۔
حضرت امام حسینؑ کا ارشاد ہے:
’’اگر انسان کے لیے موت مقرر ہی ہے تو شہادت کی موت سے بڑھ کر افضل کوئی موت نہیں ہو سکتی۔‘‘
نیز ارشاد ہوتا ہے:
’’ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة‘‘
’’ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔‘‘
اسی لیے مومنین کا یہ ایمان ہے: اگر کفار پر غالب آجائیں تو غازی، مر جائیں تو شہید، جو زندۂ جاوید بن جاتے ہیں۔
خدا کا وعدہ ہے کہ اس نے اس دین کو ساری دنیا کے ادیان پر غالب کرنا ہے:
’’لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ‘‘
اور جس نے آ کر دین کو نتیجے تک پہنچانا ہے اور اہلِ بیتِ رسولؐ کے آخری امام کے آنے کا انتظار ہے۔ اور ابھی جو جنگ چل رہی ہے، اسی آنے والے کے انتظار میں عملی اقدام ہے۔
ان شاء اللہ، خدا ہمیں وہ دن جلدی دکھائے گا۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے غالباً اسی لیے پیشین گوئی کی ہے:
’’تہران ہو گر مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے۔‘‘









آپ کا تبصرہ